سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات سے متعلق کیس کے فیصلے میں کہا ہے کہ آرٹیکل 17 کے تحت انتخابی عمل میں حصہ لینا ہر شخص کا فرض ہے اور جمہوریت کی بقا کیلیے ہر شخص انتخابی عمل میں حصہ لے۔
مقدمہ کی سماعت چيف جسٹس افتخارمحمد چودھري کي سربراہي ميں 3 رکني بنچ نے کي. عدالت نے مقدمے کا فيصلہ سناتے ہوئے کہاکہ پولنگ والے دن ووٹروں کو پولنگ سٹیشن پر لانے کیلیے امیدوار سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات کا حساب لیا جائے جبکہ پولنگ سٹیشن کے قریب امیدوار کے پولنگ دفتر پر پابندی لگائی جائے .الیکشن کمیشن امیدوار سے انتخابی اخراجات سے متعلق میٹنگ کرے اور اسے اختیار ہے کہ امیدوار کی انتخابی سرگرمیوں اور اخراجات کو مانیٹر کرے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ سٹیشن پر وفاقی حکومت اور خود مختار اداروں کے ملازمین کو تعینات کیا جائے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ الیکشن کمیشن ووٹر لسٹ کی تصدیق کیلیے گھر گھر جائے اور اس کے لیے فوج اور ایف سی کی مدد لے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں کرپشن روکنےکیلیے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ اپنے قواعد کو بہتر بنائے۔
No comments:
Post a Comment