اوباما انتظامیہ طالبان کی طرح اب حقانی نیٹ ورک سے بھی مذاکرات کرنا چاہتی ہے جبکہ اس مقصد کے لیے پاکستان سے تعاون کرنے پر زور دیا جا رہا ہے.
انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق امریکا پاکستان سے اپنے تعلقات کی بحالی اور حقانی نیٹ ورک پر اختلافات کے خاتمے کے لیے چاہتا ہے، کہ اسلام آباد شدت پسند گروپ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے آمادہ کرئے.اوباما انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اب اس پالیسی پر عمل پیرا ہے کہ اگر شدت پسندوں کو شکست نہیں دے سکتے تو ان میں شامل ہو جاؤ.یہی وہ پالیسی تھی جو واشگٹن کو کئی سال کی جنگ کے بعد افغان طالبان کے معاملے پر اپنانا پڑی.ذرائع نے انکشاف کیا کہ امریکا اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان دو سال قبل بھی پاکستانی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے بات چیت ہوئی تھی تاہم وہ مذاکرات ناکام ہو گئے تھے جبکہ اسی دوران پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی.

No comments:
Post a Comment