ڈاکٹر ارسلان نے ملک ریاض سے رقم لینے کے معاملے پر نیب اور ایف آئی اے کی مشترکہ تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے.
چئیرمین نیب کے نام اپنے وکیل کے توسط سے لکھے گئے ایک خط میں ڈاکٹر ارسلان نے موقف اختیار کیا کہ اٹارنی جنرل نے نیب کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لیے خط لکھ کر اپنی حدود سے تجاوز کیا.ان کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل کو کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے قیام کے لیے نیب چئیرمین پر دباؤ ڈالیں یا یہ بتائیں کہ کون سی ایجنسی تحقیقات کرئے گی.ڈاکٹر ارسلان نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ کے جج اور بعد ازاں پراسیکیوٹر جنرل نیب کے عہدے سے ہٹایا گیا ،اسی بنا پر وہ چیف جسٹس سے ذاتی عناد رکھتے ہیں.
چئیرمین نیب کے نام اپنے وکیل کے توسط سے لکھے گئے ایک خط میں ڈاکٹر ارسلان نے موقف اختیار کیا کہ اٹارنی جنرل نے نیب کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لیے خط لکھ کر اپنی حدود سے تجاوز کیا.ان کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل کو کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے قیام کے لیے نیب چئیرمین پر دباؤ ڈالیں یا یہ بتائیں کہ کون سی ایجنسی تحقیقات کرئے گی.ڈاکٹر ارسلان نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ کے جج اور بعد ازاں پراسیکیوٹر جنرل نیب کے عہدے سے ہٹایا گیا ،اسی بنا پر وہ چیف جسٹس سے ذاتی عناد رکھتے ہیں.

No comments:
Post a Comment