جنرل مشرف کے 2006 میں دورہ امریکہ میں ان کی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ کی تقریب رونمائی کے دوران واشنگٹن میں مختلف ثقافتی فنکشنر پر دو کروڑ روپے قومی خزانے خرچ کیے گئے تھے اور ان اخراجات کی منظوری اب چھ سال بعد جمعرات کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس سے لی جائے گی جب کہ جنرل مشرف اس وقت لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
جنرل مشرف کی آپ بیتی دو کروڑ روپے میں بکی ہو یا نہیں لیکن پاکستانی عوام کے اس کتاب کی رونمائی پر کروڑوں خرچ ہوگئے تھے۔
معروف بلاگر فرح ابن امید کے مطابق جنرل مشرف کی خواہش پر شکرپڑیاں میں تعمیر ہونے والی قومی یادگار جس پر ستر کروڑ روپے سے زیادہ رقم خرچ ہوئی تھی پر بھی سپلمنٹری گرانٹ کے نام پر نو کروڑ روپے علیحدہ خرچ کیے گئے تھے۔
جنرل مشرف نے اکتوبر دوہزار چھ میں امریکہ کا یہ دورہ ایک بہت بڑے وفد کے ساتھ کیا تھا جس میں انہوں نے اپنی کتاب کی تقریب رونمائی میں بھی شرکت کرنا تھی اور اس دورے پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے تھے۔ اب پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سامنے جو دستاویزات پیش کی جارہی ہیں ان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دو کروڑ روپے تو صرف ان ثقافتی فنکشنر پر خرچ کیے گئے تھے جو جنرل مشرف کے امریکی دورے کو رنگ لگانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔
مزے کی بات ہے کہ اس دورے کے دوران ہی جنرل مشرف کا ہسپتال میں ایک چیک اپ ہوا تھا جس کے بعد پورے پاکستان میں میڈیا نے یہ خبر بریک کر دی تھی کہ جنرل مشر ف کے خلاف فوج نے بغاوت کر دی ہے۔ اس دن پاکستان بھر میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہو گیا تھا اور اس سے ان خبروں کو اور توقیت ملی تھی۔ تاہم ایسا نہ ہوا تھا کیونکہ جب پاکستان میں جنرل مشرف کے خلاف بغاوت کی خبریں تمام ٹی وی چینلز پر چنگھاڑ رہی تھی تو اب ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ جنرل مشرف ثقافتی فنکشنز میں موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور اب چھ برس بعد ان اخراجات کی منظوری قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی سے لی جائے گی۔
ان دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ بھی بہت ساری رقومات جنرل مشرف کے دور میں سپلمنٹری گرانٹ کے نام پر خرچ ہوئی تھیں۔ راولپنڈی گولف کلب کو چار کروڑ روپے دیے گئے،گلوکارہ ریشماں کو بیس لاکھ روپے کی مالی امداد دی گئی تھی۔ جب کہ اسلام آباد کلب کا نیا سوئمنگ پول تعمیر کرنے پر جو تین کروڑ روپے خرچ کیے گئے ، ان کی منظوری بھی اب پی اے سی سے لی جائے گی۔
اس کے علاوہ جو اخراجات جنرل مشرف دور کے وزیر کھیل نے کیے تھے ان کی منظوری بھی لی جائے گی جن میں وزیرمملکت برائے کلچر کے لیے بارہ لاکھ روپے کی نئی گاڑی، وفاقی وزیر برائے ٹورازم کی نئی گاڑی اور صوابیدی گرانٹ کے نام پر 43 لاکھ روپے کے اخراجات، غریبوں کو پیسے دینے کے نام پر ساٹھ لاکھ روپے نکلوائے گئے، پارلیمانی سکریٹری برائے ٹورازم کے لیے تیرہ لاکھ روپے کی نئی گاڑی، بیرون ملک ٹیلی فون کالز اور گفٹ اور کھانے پینے پر بیالیس لاکھ روپے کا خرچہ دکھایا گیا، نوے لاکھ روپے کے اخراجات ایسے دکھائے گئے ہیں جن کے آگے تفصیل میں لکھا ہوا ہے کہ مخلتف کاموں پر خرچ ہوئے ہیں لیکن ان کی تفصیل نہیں دی گئی۔ 37 لاکھ روپے کا خرچ کانفرنس، ورکشاپ اور سیمینار پر دکھایا گیا ہے۔
پاکستانی کھلاڑیوں کو سات کروڑ پچاس لاکھ روپے دیے گئے، کشمیر سولڈیریٹی ڈے پر آٹھ لاکھ روپے خرچ کیے گئے، دو ہزار پانچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو ایک کروڑ روپیہ دیا گیا۔ اسلام اباد میں یوتھ کانفرنس کے نام پر پنتالیس لاکھ روپے خرچ کیے گئے جب کہ کلچرل ہیرٹیج کے نام پر سات کروڑ پچاس لاکھ روپے جون دو ہزار پانچ میں خرچ ہوئے۔ اب پی اے سی سے کہا گیا ہے کہ وہ ان تمام اخراجات کی منظوری دے وگرنہ ان رقوم کا استعمال غیرقانونی تصور کیا جائے گا
No comments:
Post a Comment