تحریک منہاج القرآن سندھ کے ناظم دعوت اور معروف سکالر مفتی ارشاد حسین سعیدی اپنے ڈرائیور کے ہمراہ پراسرار طور پر لاپتہ پوگئے ہیں.
تحریک کے ذرائع کے مطابق مفتی ارشاد سعیدی دس جون کی رات کراچی سے ایک میلاد کانفرنس میں شرکت کےلیے روانہ ہوئے اور راستے میں لاپتہ ہوگئے.ذرائع کے مطابق کانفرنس کے منتظمین اور تحریک کے راہنماؤں کے ساتھ ارشاد سعیدی کا رابطہ پیر کے صبح سے منتقطع ہے جبکہ ان کی سلور کلر کی کلٹس گاڑی نمبر اے ایس اے -ایک سو بیانوے بعد ازا ٹریکنگ کمپنی کے ذریعے حیدر آباد کے قریب سے برآمد ہوگئی ہے.
اُدھر واقعے کی اطلاع کے بعد تحریک منہاج القرآن کی سینٹرل ورکنگ کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں مفتی ارشاد حیسن کے مبینہ اغواء کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی .اجلا س کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے تحریک کے قائم مقام ناظم اعلی شیخ زاہد فیاض نے بتایا کہ کہ مفتی ارشاد حسین سعیدی مرکز کی طرف سے ناظم دعوت سندھ کی ذمہ داریاں گذشتہ چند سالوں سے انجام دے رہے تھے اور سندھ میں ایک معروف مذہبی سکالر کے طور پر منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ ان کے خطابات مختلف ٹی وی چینلز پر آن ایئر ہوتے رہتے ہیں
شیخ زاہد فیاض نے کہا کہ مفتی ارشاد حسین سعیدی تحریک منہاج القرآن کا اثاثہ ہیں انکا اچانک لاپتہ ہونا دنیا بھر میں تحریک کے لاکھوں کارکنوں کیلئے شدید اضطراب اور اذیت کا باعث ہے اور اس حوالے سے ان کے جذبات کو کنٹرول کرنا محال ہو گا اس لئے وفاقی اور سندھ حکومت 24 گھنٹے میں ان کو بازیاب کرائے۔ اگر اس معاملہ میں کوئی کوتاہی برتی گئی تو حالات کی تمام تر ذمہ داری وفاقی اور سندھ حکومت پر ہو گی۔ شیخ زاہد فیاض نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن پر امن ہے مگر اس کے مثبت اور ذمہ درانہ رویے کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
No comments:
Post a Comment