شہنشاہ غزل مہدی حسن کی نماز جنا زہ ادا کرنے کے بعدانہیں نارتھ کراچی کے شاہ محمد شاہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ہے.
غزل لیجنڈ کی نمازجنازہ میں سیاست دانوں ،فلم اور ٹی وی سے تعلق رکھنے والے فنکاروں سمیت ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی.مہدی حسن دو روز قبل طویل علالت کے بعد چل بسے تھے ،ان کی عمر پچاسی سال تھی.1927 میں بھارتی صوبے راجستھان میں پیدا ہونے والے مہدی حسن نے کئی دھائیوں تک برصغیر کے کروڑوں افراد کو اپنی خوبصورت آواز کے جادومیں قید کیے رکھا.ان کے اساتذہ میں استاد عظیم خان اور استاد اسماعیل خان جیسے معروف نام شامل ہیں.بھارت سے پاکستان آنے کے بعد مہدی حسن نے ابتداء میں چند دیگرشعبوں میں قسمت آزمائی کی تاہم موسیقی سے آشنائی کے بعد پھر تادم مرگ انھوں نے سازو آواز کو ہی اپنا اوڑنا بچھونا بنائے رکھا.غزل گائیکی میں مہدی حسن کو خاص ملکہ حاصل تھا ،ان کے انداز کو اپنا کر برصغیر کے کئی دیگر فنکاروں نے بھی اپنا نام کمایا.مہدی حسن اپنے پسماندگان میں نو بیٹے ،پانچ بیٹیاں اور لاکھوں کی تعداد میں چاہنے والوں کو چھوڑ کرآج منوں مٹھی تلے ابدی نیند سو گئے ہیں.
No comments:
Post a Comment