چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے پر لگے الزامات سچ ثابت ہوئے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگی.
سپریم کورٹ میں ڈاکٹر ارسلان افتخار سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے.سماعت کے دوران چیف جسٹس کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان عدالت میں پیش ہوگئے جبکہ ملک ریاض کے پرنسپل سٹاف آفیسر نے بتایا کہ وہ ملک سے باہر ہیں.ڈاکٹر ارسلان نے دوران سماعت ان الزامات کی تردید کی کہ انھوں نے بیروں ملک دوروں کے لیے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک سے کروڑوں روپے کی مراعات لی تھیں.ان کا کہنا تھا کہ جب تک عدالت اس کیس کا فیصلہ نہیں دیتی ،انہیں واپس گھر جانے کی اجازت نہیں ہے.دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بینچ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے ضابطہ اخلاق کا تقاضا ہے کہ چيف جسٹس بیٹے کے مقدمے کي سماعت نہ کريں.اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے سربراہ کی حثیت سے کسی کو بھی طلب کر سکتے ہیں.
No comments:
Post a Comment