سپريم کورٹ سے نا اہل قرار ديئے جانے والے وزير اعظم يوسف رضا گيلاني اور ان کي معاشي ٹيم نےچار سال میں اقتصادي ميدان ميں نمایاں کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ یوں کہا جائے کہ ان کے دور میں ملکی معیشت کا جنازہ نکل گیا تو بے جا نہ ہوگا.
گیلانی کے چار سالہ دور اقتدار کو عوام مہنگائي، لوڈشيڈنگ، خسارے اور روپے کي بے قدري کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھیں گے.نااہل وزير اعظم يوسف کا دور اقتدار 25 مارچ 2008 سے شروع ہوا. اس دوران چار سال ميں پانچ وزير خزانہ اور چھ سيکريٹري خزانہ تبديل ہوئے. 2008 ميں پاکستاني معيشت پر مجموعي قرضہ اور واجبات 64 کھرب کے لگ بھگ تھا اور اب اس کا بوجھ 121کھرب روپے کو چھو رہا ہے. مہنگائي کا طوفان بپا رہا اور عوام کو کئي مشکل معاشي فيصلے بھگتنا پڑے. حکومتي اداروں نے چار سال ميں 50 في صد مہنگائي کا اعتراف کيا ليکن حقيقت حکومتي اعداد و شمار سے زيادہ ہي رہي. چار سال عوام کے ليے بجلي 96 في صد مہنگي ہوئي جبکہ ہر مہينے تيل سے بجلي بنانے کے نرخ اس کے علاوہ ہيں. سي اين جي 37 روپے سے بڑھ کر 81 روپے تک پہنچي. پٹرول 58 روپے تھا اور عوام نے اس کي سنچري بھي مکمل ہوتے ديکھي.مالي خسارہ جو 7 کھرب کے لگ بھگ تھا، اب 13 کھرب کے لگ بھگ پہنچ رہا ہے.معاشي ترقي کي شرح جو 7 في صد کے لگ بھگ تھي اب ڈھائي في صد کے آس پاس ہے.لوڈ شيڈنگ نے معيشت کو ہر سال 2 ارب ڈالر کا نقصان پہنچايا اور ہر سال 4 لاکھ لوگوں کا روزگار،، چھين ليا.
No comments:
Post a Comment