صدر فزیکل چیلنج کرکٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا پرین بہل نے کہا ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کے حوالے سے ماحول انتہائی سازگار ہے اور اس حوالے سے دنیا میں غلط پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے.جلد فزیکل ہینڈی کیپ ٹیموں کے مابین ایشیاء کپ منعقد کرائیں گے.
ایم ڈی بیت المال زمرد خان کی جانب سے بھارتی ٹٰیم کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پرین بہل کا کہنا تھا کہ پاکستان آنے سے قبل سیکورٹی کے حوالے سے بھارت میں بہت خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا تاہم اس کے باجود وہ ٹیم لے کر یہاں آئے.پرین بہل نے کہا کہ پاکستان آکر انہیں محسوس ہوا کہ دنیا میں پروپیگنڈے کے برعکس پاکستان نہ صرف کھیلوں کے حوالے سے محفوظ ملک ہے بلکہ یہاں کے لوگ انہتائی مہمان نواز بھی ہیں.پرین بہل کہا کہ پاکستان آنے سے قبل وہ اور ان کی ٹیم کے کھلاڑی یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید یہاں دس بجے کے بعد کوئی گھر سے باہر نہیں نکلتا ہوگا تاہم یہاں صورتحال بالکل مختلف ہے.ایک سوال کے جواب میں پرین بہل نے کہا کہ ان کی ٹیم کو پاکستان میں بھرپور سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے اور کھیلوں کے حوالے سے پاکستان میں سیکورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے.پرین بہل نے کہا کہ وہ واپس جا کر سونیا گاندھی سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کر کے انہیں پاکستان کے ماحول کے بارے میں بتائیں گے.انھوں نے کہا کہ وہ بھارت میں کرکٹ حکام کو شرم دلانا چاہیں گے کہ جب فزیکل ہینڈی کیپ ٹیم کامیاب دورہ کر سکتی ہے تو پھر جسمانی طور پر فٹ ٹیموں کو پاکستان آنے میں کس چیز کا ڈر ہے؟ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے رہنے والے ایک ہی کلچر اور رسم و رواج کے حامل ہیں اس لیے پاکستان اور بھارت کو آپس میں دوستی کا رشتہ مظبوط کرنا چاہے.پرین بہل نے بتایا کہ ان کا تعلق دہلی کے قریب واقع شہر گڑھ گاؤں سے ہے جہاں دنیا بھر سے سامان بکنے آتا ہے .پرین بیل نے کہا کہ انہیں افسوس ہوتا ہے جب وہ بھارت میں یورپ اور افریقہ کے ممالک کی ایشاء تو فروخت ہوتے دیکھتے ہیں لیکن پاکستانی ایشاء دستیاب نہیں ہوتیں.معذور افراد کے حوالے سے پرین بہل نے کہا کہ بھارت میں خصوصی افراد کو مکان ،ٹیکس میں چھوٹ سمیت بہیت سی سہولیات حاصل ہیں جبکہ ان کے مطابق پاکستان میں انھوں نے ایسی کوئی مثال نہیں دیکھی.
ایم ڈی بیت المال زمرد خان کی جانب سے بھارتی ٹٰیم کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پرین بہل کا کہنا تھا کہ پاکستان آنے سے قبل سیکورٹی کے حوالے سے بھارت میں بہت خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا تاہم اس کے باجود وہ ٹیم لے کر یہاں آئے.پرین بہل نے کہا کہ پاکستان آکر انہیں محسوس ہوا کہ دنیا میں پروپیگنڈے کے برعکس پاکستان نہ صرف کھیلوں کے حوالے سے محفوظ ملک ہے بلکہ یہاں کے لوگ انہتائی مہمان نواز بھی ہیں.پرین بہل کہا کہ پاکستان آنے سے قبل وہ اور ان کی ٹیم کے کھلاڑی یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید یہاں دس بجے کے بعد کوئی گھر سے باہر نہیں نکلتا ہوگا تاہم یہاں صورتحال بالکل مختلف ہے.ایک سوال کے جواب میں پرین بہل نے کہا کہ ان کی ٹیم کو پاکستان میں بھرپور سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے اور کھیلوں کے حوالے سے پاکستان میں سیکورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے.پرین بہل نے کہا کہ وہ واپس جا کر سونیا گاندھی سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کر کے انہیں پاکستان کے ماحول کے بارے میں بتائیں گے.انھوں نے کہا کہ وہ بھارت میں کرکٹ حکام کو شرم دلانا چاہیں گے کہ جب فزیکل ہینڈی کیپ ٹیم کامیاب دورہ کر سکتی ہے تو پھر جسمانی طور پر فٹ ٹیموں کو پاکستان آنے میں کس چیز کا ڈر ہے؟ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے رہنے والے ایک ہی کلچر اور رسم و رواج کے حامل ہیں اس لیے پاکستان اور بھارت کو آپس میں دوستی کا رشتہ مظبوط کرنا چاہے.پرین بہل نے بتایا کہ ان کا تعلق دہلی کے قریب واقع شہر گڑھ گاؤں سے ہے جہاں دنیا بھر سے سامان بکنے آتا ہے .پرین بیل نے کہا کہ انہیں افسوس ہوتا ہے جب وہ بھارت میں یورپ اور افریقہ کے ممالک کی ایشاء تو فروخت ہوتے دیکھتے ہیں لیکن پاکستانی ایشاء دستیاب نہیں ہوتیں.معذور افراد کے حوالے سے پرین بہل نے کہا کہ بھارت میں خصوصی افراد کو مکان ،ٹیکس میں چھوٹ سمیت بہیت سی سہولیات حاصل ہیں جبکہ ان کے مطابق پاکستان میں انھوں نے ایسی کوئی مثال نہیں دیکھی.
No comments:
Post a Comment