ایسے میں جب زرداری اینڈ کمپنی کے پاس کوئی اجلے دامن کا حامل شخص نہیں،ایسے میں جب ایک سے بڑھ کر ایک بدعنوانی کا نمونہ اور کرپشن کا شہکار فنکار قوم کو دکھایا جاتا رہا.ایسے کہ جیسے کہا جا رہا ہو کہ یہ منظور نہں تو پھر یہ اور یہ بھی منظور نہیں تو پھر یہ قبول کر لو.یہاں کم تر برائی قبول کرنے کا فارمولا بھی بے اثر ہوگیا کہ راجہ رینٹل ،مخدوم ایفی ڈرین سے ذیادہ بڑا فنکار ہے.ایسے میں جب پیپلز پارٹی کی قیادت کا ارتقاء ذولفقار علی بھٹو کے بعد بے نظیر شہید سے ہوتا ہوا اول زرداری اور پھر راجہ رینٹل تک آٰگیا ہو.کیا قوم اب بھی آئندہ الیکشن میں انہیں لوگوں کو ووٹ دے گی.اگر ایسا ہواتو پھر تف ہے ایسی قوم پر اور لعنت ہے ایسے شعورپر کہ جو اتنا فیصلہ بھی نہ کرسکے کہ کیا برا اور کیا اچھا.جو کدھوں گھوڑوں میں تمیز نہ کرسکے افسوس ہے ایسی قوم اور اس کی اجتماعی سوچ پر..
.پاکستان کے اب تک کے مسائل میں ان تیس فیصد لوگوں کا قصور برابر کا ہے کہ جو ایسے کمینوں،بدمعاشوں ،لٹیروں اور بدعنوانوں کو ووٹ دیتے آئے ہیں .یہ تیس فیصد محض تیس فیصد لوگ جو اپنے تھوڑے سے مفاد کے لیے پوری قوم کا سودا کرڈالتے ہیں .یہ تیس فیصد جو اپنے تھوڑے سے فائدے اور معمولی سی لالچ ،حرص اور طمع کے لیے ضمیر بیچ دیتے ہیں ،یہ لوگ بھی ان ستر فیصد کی طرح گھروں میں بیٹھ جائیں تو یہ کرپٹ انتخابی نظام اپنی موت آپ مر جائے گا.دوسری صورت یہ کہ نظام سے تنگ اور حکمرانوں سے نالاں وہ ستر فیصد اٹھ کھڑے ہوں اورظالموں سے اپنے حقوق چھین لیں
No comments:
Post a Comment