Wednesday, 20 June 2012

بیس جون ،جب سپنے ٹو ٹ گئے




آج کے دن یعنی 20 جون انیس سو  نناوے ،جب پاکستان نے دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کیا مگر یکطرفہ مقابلے کے بعد ٹرافی  آسٹریلیا کو تحفے میں دے دی.

لارڈز کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ میں فانئل مقابلہ شروع ہوا تو کسے خبر تھی کہ سعید انور،اعجاز احمد،وسیم اکرم اور انضمام الحق جیسے عالمی معیار کے تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم یوں اتنی آسانی سے ہتھیار ڈال دے گی.
میچ  شروع ہوا تو دنیا بھر کے شایقین کی نظریں لارڈز کرکٹ گرائونڈ پر جم گئیں.پاکستان میں تو جیسے معمولات زندگی ٹھپ ہو گئے،سڑکوں ہر ہو کا عالم ،کرکٹ کا شوق تھا یا نہیں مگر ہر شخص ٹی وی کے آگے جم کے بیٹھ گیا.
ٹاس تک قسمت نے خوب خوب گرین شرٹس کا ساتھ دیامگر وسیم اکرم نے باؤلرز کے لیے نسبتا سازگار ماحول میں اپنی ناقابل اعتبار نیٹنگ لائن اپ کو پہلے میدان میں اتار کر امتحان میں ڈال دیا.اور وہ بھی اس ٹیم کے خلاف کہ جس کے پاس گلین میک گراتھ ،فلیمنگ اور موڈی   جیسے اعلی پائے کے گیند باز موجود تھے جو کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے. پھر ان سے جو کسر رہ جاتی وہ شین وارن پوری کرنے کو تیار تھے اور انھوں نے ایسا ہی کیا.
سعید انور اور وجاہت اللہ واسطی پر مشتمل اوپننگ جوڑی میدان میں اتری تو پاکستانیوں نے  بھی امیدوں کے لمبے پل باندھ لیے.ہر ایک انیس سو بیانوے کی تاریخ پھر سے رقم ہوتی دیکھنے کاخواہشمند تھا.مگر وہ ٹیم ہی کیا جو امیدوں کو خاک میں نہ ملائے!! بات فتح یا شکست کی نہیں لیکن یوں لڑے بغیر سرنڈر کردینا کس کو منظورتھا!!  لارڈز کا کرکٹ گراؤ نڈ جو تارکین وطن پاکستانیون سے کچھا کچھ بھرا ہوا تھا اور" دشمن کا دشمن ہوا دوست" کے مصداق انگلش تماشائیوں کی ہمدریاں بھی قدرے پاکستان کے پلڑے میں تھیں.مگر میچ کا آغاز ہوا تو یہ سب چیزیں جیسے کسی کام کی نہ رہیں.پانچویں اور میں جب وجاہت اللہ واسطی نے چودہ گیندوں پر بمشکل کھاتہ ہی کھولا تھا کہ مارک واہ کے ہاتھو ں  میک گراتھ کا نشانہ بن گئے.ایک رن بنانے کے لیے انہیں بیس منٹ تک جدوجہد  کرنا پڑی .اگلے ہی اور میں فلیمنگ  نے سیٹ اور ان فارم  سعید انور کو کلین بولڈ کیا تو پاکستانیوں کے دل جیسے دھڑکنا بھول گئے ،بوجھل قدموں سے پویلین کی طرف لوٹتے سعید انور کو خود بھی اس کا پورا احساس تھا.سعید نے 17 گیندوں پر 15 رنز سکور کیے جس میں تین چوکے بھی شامل تھے.عبدالرزاق اور اعجاز احمد کریز پر آئے تو رنز بنانے کی رفتارکو جیسے بریکیں لگ گئیں. دونوں نے تقریبا 15 اوورز تک مزاحمت کی تاہم بیسویں اوور میں عبدالرزاق کی ہمت جواب دے گئی اور وہ موڈی کو وکٹ تھما بیٹھے.کور میں شاندرفرنٹ  ڈائیو پر کیچ تھامنے کی ذمہ داری اس مرتبہ سٹیو واہ کی تھی.  رزاق نے سترہ رنز بنائے تاہم اس کے لیے انہیں اکاون گیندوں کا سامنا کرنا پڑا،جب وہ آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا سکور 19.4 اوورز میں 68 رنز تھا..اعجاز احمد جو خاصے محتاط کھیل رہے تھے اور 46 گیندوں پر بائیس رنز بنا چکے تھے ،انھوں نے رزاق کی تقلید کرنے میں ذیادہ دیر نہیں لگائی اور چوبیسویں اوور میں شین وارن کی ایک گیند پر کلین بولڈ ہوگئے. 91 رنز کے مجموعی سکور پر جب معین خان 6 رنز بنانے کے بعد شین وارن کا دوسرا شکار بنے تو آدھی پاکستانی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی.اننگز کے اکتیسویں اوور میں بیانوے ورلڈ کپ کے ہیرو انضمام آؤٹ ہوئے تو سار معاملہ آل راؤنڈرز کے سر آگیا.تاہم شاہد آفریدی ،وسیم اکرم اور اظہر محمود آسٹریلوی باؤلرز کے سامنے کوئی مزاحمت نہ کر سکے اور یوں پوری پاکستانی ٹیم 39 ویں اوور میں 132 رنز پر ڈھیر ہوگئی.
جواب میں فتح کو قریب دیکھ کر آسٹریلوی بلے باز وں نے آتے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور مارک واہ اور ایڈم گللرسٹ نے ابتدائی دس اوور میں ہی 75 رنز جوڑ لیے.گلکرسٹ 54 رنز بنانے کے بعد گیارویں اوور میں ثقلین مشتاق کی گیند پر آؤٹ ہوئے تو اس وقت تک نوشتہ دیوار واضح پو چکا تھا.گینگروز نے بغیر کسی دباؤ میں آئے حدف 21 ویں اوور میں حاصل کرلیا اوریوں  بیس جون کی شام آسٹریلیا میں جشن اور پاکستان میں شام غریباں  کے طور پر  منائی گئی.انیس ننانوے کے وولڈ کپ میں کامیابی دراصل صحیح معنوں میں کرکٹ کی دنیا میں آسٹریلیا کی حکمرانی کا آغاز تھا.آسٹریلیا نے اس کے بعد دو ہزار تین اور دو ہزار سات کا عالمی کپ بھی اپنے نام کیا جبکہ پاکستان ان دنوں ایونٹس میں پہلے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا.چار وکٹیں لینے والے شین وارن میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے. اس ہار کے بعد پاکستان میں میچ فکسنگ کا جن بوتل سے باہر  آگیا.اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے حکم پر کھلاڑیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی گئیں.  جسٹس( ر ) ملک قیوم کی زیر صدارت ایک کمیشن قائم کیا گیا  جس نے تقریباً سال بھر کی تحقیقات کے بعد مئی 2000ء میں کپتان وسیم اکرم سمیت متعدد کھلاڑیوں کو ‏آئندہ کوئی عہدہ نہ دینے کی سفارش کی اور سلیم ملک اور عطاء الرحمٰن پر تاحیات پابندی بھی عائد کی۔

No comments:

Post a Comment