ایفی ڈرون کیس میں ملوث ہونے کے الزام میں مزید دو سرکاری اہلکار،سیکرٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر اور کیبنٹ ڈویژن کے ایڈیشنل سیکرٹری مشاہداللہ بیگ بھی اینٹی نارکوٹکس فورس کی تحقیقات کے زد میں آگئے ہیں.
ذرائع کے مطابق برلکس لیب ملتان اور دناس فارما اسلام آباد کو نو ہزار کلو کوٹہ دینے پر دونوں سرکاری افسران سے پوچھ کچھ کی جارہی ہے.ذرائع کے مطابق مشاہداللہ بیگ نے تفتیشی عمل روکنے کے لیے ایک فائل کو پانچ ماہ تک دبائے رکھا.اس بنیاد پر اے این ایف مشاہداللہ بیگ کو بلانے کی تیاری کررہی ہے کہ انھوں نے مذکورہ فائل اتنے عرصے تک کیوں دبائے رکھی.
No comments:
Post a Comment