Monday, 24 September 2012

زیبا بختیار نے ایم کیوایم میں شمولیت اختیار کر لی

فلم اورٹی وی کی مشہور اداکارہ زیبا بختیارنے ایم کیوایم میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔

اداکارہ زیبا بختیار نے کراچی میں ایم کیوایم کے مرکزنائن زيرو پرپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر کئی دوسرے اداکاربھی موجود تھے۔۔ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہپاکستان ميں تمام مذاہب، مسالک اورلساني و ثقافتي اکائيوں کو امن وسکون سے زندگي گزارنے  کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو روشن خيال اورقائد اعظم کي امنگوں کے مطابق بنانے کے لئے سب کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔

تحریک انصاف نے اپنی ہیلتھ پالیسی کا اعلان کردیا

تحریک انصاف نے پانچ نکات پر مشتمل  ہیلتھ پالیسی کا اعلان کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ  ملک بھر سے گھوسٹ ہیلتھ سینٹرز کو ختم کر یں گے.

اسلام آباد میں تحریک انصاف کی ہیلتھ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نظام صحت میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقلی یقینی بنائی جائیگی۔ پالیسی کے تحت متعدی اور غیر متعدی امراض کے بارے میں آ گاہی، سینی ٹیشن کا قومی پروگرام، اشیائے خوردونوش کے معیار کے لئے نیا قانون اور نئی ڈرگ پالیسی بنائی جائیگی۔ صحت کے شعبے کو با اختیار، تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ بورڈز کا قیام جبکہ اسپتالوں کو ڈسٹرکٹ ہیلتھ بورڈ کے زیر انتظام کیا جائیگا۔ صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی پوری کی جائیگی۔ جبکہ نرسنگ کونسل اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کو غیر سیاسی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

ڈاکٹرطاہر القادری کا گستاخانہ فلم بنانے والوں کے خلاف مقدمہ لڑنے کا اعلان


تحریک منہاج القرآن کے سربراہ اور معروف مذہبی سکالرشیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے گستاخانہ فلم بنانے والوں کے خلاف بطور وکیل مقدمہ لڑنے کا اعلان کردیا ہے.

تحریک منہاج القرآن کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ  توہین آمیز فلم کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرے.تحریک مہنہاج القرآن کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر حکومت پاکستان ایسا کرتی ہے تو عالمی قوانین،انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق وہ حکومت پاکستان کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں پاکستانی قوم اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے وکیل کے طور پر پیش ہونے کیلئے تیار ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ او آئی سی  کا ہنگامی اجلاس بلا کر متفقہ قرارداد کے ذریعے اقوام متحدہ  اور موثر ممالک پر دباؤ بڑھائیں کہ احترام مذاہب کیلئے قانون سازی کی جائے تا کہ اظہار رائے کی چھتری تلے توہین انبیاء کا مذموم عمل ہمیشہ کیلئے دم توڑ جائے.ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد ،لاہور ،ملتان اور کراچی میں تحریک منہاج القرآن کی جانب سے گستاخانہ فلم کے خلاف پرامن ریلیوں کے انعقاد پر تحریک کے کارکنوں اور قائدین کو مبارکباد پیش کی.انہوں نے کہا کہ یوم عشق رسول ﷺ کے دن ہونیوالی بدترین توڑ پھوڑ ،گھیراؤ جلاؤ چند مٹھی بھر شر پسندوں کی کارروائی تھی جسے کسی طور پر بھی پاکستانی قوم کا مجموعی رویہ قرار نہیں دیا جا سکتا.

Thursday, 13 September 2012

سانحہ بالدیہ ٹائون ، طاہرالقادری کا بے سہارا ہونے والے بچوں کی کفالت کا اعلان

تحریک منہاج القران کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کراچی اورلاہور سانحات میں بے سہارا ہوجانے والے بچوں کی کفالت کا اعلان کردیا۔

 اپنے بیان میں علامہ طاہر القادری نےکہاکہ انسانی المیے نے سینکڑوں گھروں کے چراغ ہی گل نہیں کئے بلکہ سنگین اقتصادی مشکلات بھی پیدا کردی ہیں ۔
انہوں نے کہاساری قوم کو اجتماعی طور پر توبہ اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے۔انہوں نے لاہور اور کراچی میں آتشزدگی کے واقعات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہارکیا۔

Wednesday, 5 September 2012

ڈاکٹر محمد طاہر القادری تنظیمی و دعوتی دورہ پر ڈنمارک پہنچ گئے


تحریک منہاج القرآن کی بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ایک ہفتے کے تنظیمی و دعوتی دورہ پر گزشتہ روز چار ستمبر کو  ڈنمارک پہنچ گئے ہیں.


 کوپن ہیگن انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک کے صدرسید محمود شاہ ، سیکریٹری جنرل بلال اوپل اور دیگر عہدیداران نے اُن کا شاندار استقبال کیا ، اس موقع پر امیر منہاج القرآن ڈنمارک علامہ عبدالستار سراج نے انہیں گلدستہ پیش کیا ۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ڈنمارک میں قیام کے دوارن منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک کے زیر اہتمام منعقدہ مختلف تقاریب میں شرکت کریں گے جن میں  چھ ستمبر کو دہشت گردی کے خلاف فتویٰ کے ڈینش ایڈیشن کی تقریب رونمائی ، سات ستمبر کو اجتماع جمعہ، آٹھ ستمبر کو محفل سماع، نو ستمبر کو یورپین پیس کانفرنس اور دس ستمبر کو مذہبی اور سیاسی بنیاد پرستی کے عنوان سے کانفرنس شامل ہیں

Monday, 3 September 2012

میچ اور سیریز جیتنے کےلیے آسٹریلیا کو دو سو پینتالیس رنز کا ہدف


پاکستان نے تیسرے اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل  میں آسٹریلیا کو میچ اور سیریز جیتنے کے لیے 245 رنز کا ہدف دیا ہے

شارجہ میں کھیلے جانے والے میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔پاکستان کی طرف سے محمد حفیظ اور ابوظہبی ون ڈے کے ہیرو ناصر جمشید نے اننگز کا آغاز کیا۔دونوں نے نہایت عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور ایک سو انتیس رنز کا شاندار اوپننگ سٹینڈ فراہم کیا۔تاہم بعد میں آنے والے بیٹسمین رنز کی رفتار کو برقرار نہ رکھ سکے اور یکے بعد دیگرے آئوٹ ہوتے ہوگئے۔خاص طور پر شاہد خان آفریدی جنھیں ون ڈائون کی پوزیشن پر بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا تھا اور مڈل آرڈر بیٹسمین  عمر اکمل توقعات پر پورا نہ اترے اور غیر ضروری شارٹس کھیل کر وکٹیں گنوا بیٹھے جس سے ٹیم دبائو میں آگئی ۔آخری اوورز میں جب تیزی کے ساتھ رنزبنانے کی ضرورت تھی تو مصباح الحق انتالیس گیندوں پر پچیس رنز بنانے کے بعد آئوٹ ہوگئے۔پاکستان کی ٹیم مقررہ پچاس اوورز میں سکور بورڈ پر 244 رنز کا ہندسہ ہی سجا سکی اور آسٹریلیا کو جیتنے کے لیے 245 رنز کا ہدف ملا۔پاکستان کی جانب سے محمد حیفط سب سے کامیاب بیٹسمین رہے ۔انھوںنے 78 رنز سکور کیے۔ناصر جمشید 48 ، اسد شفیق اور اظہر علی ستائس ستائس رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔

Sunday, 2 September 2012

نجی ٹی وی پر ٹاک شو کے بعد اجمل خان وزیر اور اشرف گجرالجھ پڑے،ایک دوسرے کو ننگی گالیاں

ایک نجی ٹی وی پر ٹاک شو میں شرکت کے بعد مسلم لیگ ق کے سنئیر نائب صدر اجمل خان وزیر اور حال ہی میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرنے والے وکیل راہنماء اشرف گجر ایک دوسرے سے الجھ پڑے اور نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی. اس دوران دونوں نے ایک دوسرے کو لیڈی اینکر پرسن کی موجودگی میں خوب ننگی گالیوں سے نوازا تاہم چینل کے عملے کی مداخلت پر بیچ بچائو ہوگیا

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے اجمل خان وزیر اور مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اشرف گجر ایڈووکیٹ اسلام آباد میں واقع ایک نجی ٹی وی کے دفتر ٹاک شو میں شرکت کے لیے آئے.دونوں حضرات پروگرام کے دوران بھی ایک دوسرے پر الفاظ کے تابڑ توڑ حملے کرتے رہے .تاہم جب پروگرام ختم ہوا تو اجمل وزیر اور اشرف گجر پروگرام کی لیڈی اینکر پرسن اور چینل کے دیگر عملے کی موجودگی میں ہی ایک دوسرے سے الجھ پڑے.دونوں نے ایک دوسرے کو زبردست ننگی گالیوں سے نوازا اور کمرے میں ہی موجود ایک اور مہمان خاتون کا بھی لحاظ کیے بغیر غلیظ زبان استعمال کرتے رہے .اس دوران پروگرام کی اینکر پرسن کی حالت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی اور اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس صورتحال میں وہ کیا کرئے. غالبا جو کام وہ آن کیمرا نہیں کرا سکی ،اسے آف دی ریکارڈ ہوتا دیکھ کر کنفیوژ ہوگئی تھی. اس سے پہلے کے لیگی راہنمائوں کے درمیان جھگڑا باقاعدہ مارکٹائی کی شکل اختیار کرتا ،شور شرابا سن کے چینل کے سنئیر افراد پر مشتمل عملہ تیزی سے ریکارڈنگ روم میں پہنچا اور دونوں چراغ پاہ راہمائوں کو الگ الگ کمروں میں لے گیا. بعد ازاں دونوں حضرات کے درمیان وجہ تصفیہ یہ پتہ چلی کہ دوران شو اشرف گجر اور اجمل وزیر ایک دوسرے کے قائدین کے بارے میں ریمارکس پر ناخوش تھے جبکہ اجمل وزیر کو گلہ تھا کہ اشرف گجر نے انہیں پروگرام کے دوران بات کرنے کا موقع نہیں دیا.ق لیگی راہنماء کا پارا اس بات پر بھی خاصا چڑھا ہوا تھا کہ اشرف گجر پروگرام کے دوران اصل ٹاپک کے بجائے نواز شریف کی غیر ضروری تعریف کیے جارہے تھے.ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اشرف گجر کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئیے کہ وہ سیاست میں آئے ،وہ سیاست دان نہیں ایک وکیل ہیں جنھیں سیاست کی الف ب تک نہیں پتا.اجمل وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اشرف گجر کی ساری سیاست نواز شریف کی تعریف و توضیح کے گرد گھومتی ہے ،اس کے علاوہ ان کا کوئی سیاسی تعارف نہیں...